سوختہ بال

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جس کے پر جل گئے ہوں؛ بے بس، مجبور۔  ہوش پر بستہ نہ ہو، فکر نہ ہو سوختہ بال قیدِ ظلمات نہ ہو پھوٹتی کرنوں کا مآل      ( ١٩٥٨ء، نبضِ دوراں، ١٦٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے مرکبِ توصیفی ہے۔ فارسی سے اسم صفت 'سوختہ' کے ساتھ فارسی اسم مذکر 'بال' بطور موصوف بڑھانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور ١٨٦٧ء "رشک بحوالہ نور اللغات" میں تحریراً مستعمل ملتا ہے۔